فلپائن: سمندری طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی

فلپائن کے دارالحکومت کے جنوب میں سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے لوزون میں سمندری طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہوگئی۔

ہنگامی امداد کے اداروں نے ممکنہ طور پر مزید ہلاکتوں کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے علاوہ شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقلی کرنے کی ہدایت کردی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فلپائن میں سمندری طوفان ’کموری‘ کے باعث طوفانی ہواؤں اور بارش کی وجہ سے مختلف حادثات میں ہلاکتیں ہوئیں۔

علاوہ ازیں شدید بارش اور طوفانی ہواؤں کی وجہ سے ملک کا سب سے بڑا ایئرپورٹ بھی بند کر دیا گیا۔

فلپائن میں داخل ہونے والے 20 ویں سمندری طوفان کموری 2 دسمبر کی رات کو زمین سے ٹکرایا تھا، جس کے بعد ہزاروں شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

یہی نہیں بلکہ سمندری طوفان کموری کے باعث درخت اکھڑ گئے اور بجلی کے کھمبے گرگئے،تاہم مرکزی شمالی لوزون جزیرے اس طوفان کی شدت کم ہوگئی ہے لیکن اب بھی خطرہ موجود ہے۔

واضح رہے کہ سمندری طوفان کے باعث جنوب مشرقی ایشین گیمز کے کچھ ایونٹس کے شیڈول کو بھی روک دیا گیا، جس کی میزبانی فلپائن 11 دسمبر تک کررہا تھا۔

دوسری جانب مقامی ڈیزاسٹر ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وسطی بیکول کے علاقے میں 5 افراد کی موت ہوئی جن میں 3 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

علاوہ ازیں دارالحکومت کے جنوب میں واقع ایک علاقے میں مزید 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان مارک ٹمبل نے بتایا کہ کم از کم 3 لاکھ 45 ہزار افراد انخلا کرچکے ہیں اور وہ لوگ اپنے گھروں میں واپسی کے لیے حکام کی منظوری کے منتظر ہیں۔

دریں اثنا سمندری طوفان کی شدت کم ہونے کے ساتھ ہی طوفانی ہواؤں کی رفتار 125 کلومیٹر فی گھنٹہ (78 میل فی گھنٹہ) سے کم ہو کر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (67 میل فی گھنٹہ) تک ہوگئی اور اب اس کا رخ جنوب چینی سمندر کی جانب ہے۔

واضح رہے کہ فلپائن میں ہر سال 20 کے قریب طوفان آتے ہیں جس میں ہزاروں اموات کے ساتھ لاکھوں افراد مستقل طور پر خطِ غربت کے نیچے چلے جاتے ہیں۔

شمالی لوزون میں 2016 میں بھی ہائمہ نامی طوفان نے تباہی مچادی تھی، جس سے 14 ہزار گھر مکمل طور پر تباہ جبکہ 50 ہزار گھروں کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

فلپائن کی تاریخ کا بدترین طوفان 2013 میں آنے والے ہائیان ٹائیفون کو کہا جاتا ہے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 7 ہزار 3 سو 50 سے زائد افراد لاپتہ اور لقمہ اجل بنے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *