دو ’خواتین اول‘ کے درمیان پھنسے ڈونلڈ ٹرمپ

ڈونلڈ ٹرمپ جب سے امریکی صدر بنے ہیں، تب سے ان کا نام متنازع خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔

جہاں وہ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں، وہیں وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کو عالمی رہنماؤں سے ہونے والی خصوصی ملاقاتوں کے درمیان ساتھ رکھنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ سرکاری صدارتی رہائش گاہ ’وائٹ ہاؤس‘ میں اہلیہ میلانیا ٹرمپ کو رکھنے سمیت اپنی شادی شدہ بیٹی ایوانکا ٹرمپ کو بھی ساتھ رکھنے پر ان پر تنقید کی جاتی ہے۔

اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس وقت وائیٹ ہاؤس میں ایک نہیں بلکہ ’دو خواتین اول‘ رہتی ہیں۔

اور اس بات کا ذکر 3 دسمبر کو شائع ہونے والی امریکی صحافی کیٹ بینت کی 320 صفحات پر مشتمل کتاب ’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بایوگرافی‘ میں بھی ملتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق کیٹ بینت کی کتاب میں وائیٹ ہاؤس کی زندگی کی اندرونی کہانی کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہاں رہنے والے مکینوں کے درمیان کس طرح کے تعلقات ہیں۔

’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بائیوگرافی‘ کو 3 دسمبر کو فروخت کے لیے پیش کردیا گیا—فوٹو: ایمازون
’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بائیوگرافی‘ کو 3 دسمبر کو فروخت کے لیے پیش کردیا گیا—فوٹو: ایمازون

رپورٹ کے مطابق کتاب میں میلانیا ٹرمپ کی ذاتی زندگی کو مرکز بنایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ان کے ساتھ کس طرح کے مسائل پیش آئے اور اب وہ کس طرح کی زندگی گزار رہی ہیں۔

اگرچہ کتاب میں میلانیا ٹرمپ کی جانب سے خود کہی جانے والی کسی بات کو شامل نہیں کیا گیا، تاہم پوری کتاب ان کی زندگی اور ان کے ساتھ پیش آنے والے مسائل پر مبنی ہے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح میلانیا ٹرمپ وائیٹ ہاؤس میں رہتی ہیں اور وہ کس طرح بیرون ملک کے دوروں پر خود کو شوہر سے دور رکھتی ہیں۔

کتاب میں عندیہ دیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا، تاہم ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ دونوں کے درمیان تلخیاں کس حد تک موجود ہیں اور ان کا سبب کیا ہے۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ وائیٹ ہاؤس کے ایک علیحدہ حصے میں رہتی ہیں اور وہ شوہر کے بیڈروم میں رات نہیں گزارتیں۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا—فائل فوٹو: اے ایف پی
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا—فائل فوٹو: اے ایف پی

’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بائیوگرافی‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 30 ہزار اسکوائٹر میٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے وائیٹ ہاؤس میں میلانیا ٹرمپ ایک الگ بیڈ روم میں سوتی ہیں اور ان کا زیادہ تر ملنا جلنا شوہر سے نہیں رہتا۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں میاں بیوی الگ رہتے ہیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ دن میں کم سے کم 2 بار میلانیا ٹرمپ سے فون سمیت دیگر ذرائع کے ذریعے رابطہ کرکے ان سے معاملات کا ذکر کرتے اور مشورہ لیتے ہیں۔

کتاب کے مطابق وائیٹ ہاؤس میں اس وقت ایک طرح سے 2 خواتین اول رہ رہی ہیں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ سمیت ان کی بڑی بیٹی اور خصوصی مشیر ایوانکا ٹرمپ ہیں۔

کتاب سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ میلانیا ٹرمپ کو بھی خاتون اول جتنی حیثیت حاصل ہے اور وہ دختر اول کے طور پر وہاں رہائش پذیر ہیں، تاہم ان کے اپنی سوتیلی والدہ میلانیا ٹرمپ سے اچھے تعلقات ہیں۔

غیر ملکی دوروں کے دوران بھی میلانیا کو شوہر ٹرمپ سے دور دیکھا جاتا رہا ہے—فوٹو: اے ایف پی
غیر ملکی دوروں کے دوران بھی میلانیا کو شوہر ٹرمپ سے دور دیکھا جاتا رہا ہے—فوٹو: اے ایف پی

کتاب کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ میلانیا اور ایوانکا ٹرمپ کے درمیان بہت تلخیاں ہیں مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں۔

ساتھ ہی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ جہاں شوہر سے الگ رہتی ہیں وہیں انہیں وائیٹ ہاؤس میں انتہائی اہمیت بھی حاصل ہے اور ان کے کہنے یا ان کی ناراضگی کی وجہ سے ہی کئی اہم ملازمین کو نوکری سے نکالا گیا۔

’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بائیوگرافی‘ میں بتایا گیا ہے کہ میلانیا ٹرمپ اپنے شوہر کی تقریروں میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اسی کتاب کے حوالے سے برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران میلانیا ٹرمپ کی لیک ہونے والی برہنہ تصاویر کو مبینہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہنے پر سامنے لایا گیا۔

ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا شادی شدہ ہونے کے باوجود وائیٹ ہاؤس میں رہتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک
ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا شادی شدہ ہونے کے باوجود وائیٹ ہاؤس میں رہتی ہیں—فوٹو: شٹر اسٹاک

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جولائی 2016 میں ’نیو یارک پوسٹ‘ اور نومبر 2016 میں فیشن میگزین ’جی کیو‘ میں شائع ہونے والی میلانیا ٹرمپ کی پرانی برہنہ تصاویر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی راجر اسٹون نے لیک کروایا۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ میلانیا ٹرمپ کو اس بات پر یقین ہے کہ ان کی برہنہ تصاویر کو ان کے شوہر نے لیک نہیں کروایا، تاہم ذرائع کے مطابق خاتون اول کی پرانی ماڈلنگ کے زمانے کی برہنہ تصاویر ڈونلڈ ٹرمپ کے کہنے پر ہی ان کے دوست نے لیک کروائیں۔

کتاب میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوں اور کس خاص مقصد کے لیے اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کی برہنہ تصاویر لیک کروائیں، تاہم ذرائع سے بتایا گیا کہ اس سارے معاملے کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ ہی تھے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے  کہ ایوانکا اور میلانیا کے درمیان اچھے تعلقات ہیں—فوٹو: اے ایف پی
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایوانکا اور میلانیا کے درمیان اچھے تعلقات ہیں—فوٹو: اے ایف پی

دوسری جانب کتاب سامنے آنےکے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ساتھی راجر اسٹون نے میلانیا ٹرمپ کی برہنہ تصاویر لیک کروانے کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔

واضح رہے کہ میلانیا ٹرمپ پہلے بطور ماڈل کام کرتی تھیں اور انہوں نے 2004 میں ڈونلڈ ٹرمپ سے شادی کی۔

شادی سے قبل ہی دونوں کے تعلقات استوار ہوئے تھے اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی ماضی میں فیشن اور ماڈلنگ کی دنیا سے وابستہ رہے ہیں، وہ مقابلہ حسن کروانے سمیت ماڈلز کے فیشن شو کرواتے رہے ہیں۔

ایوانکا ٹرمپ 1995 سے 2000 تک انتہائی مشہور اور بااثر ماڈل رہی ہیں اور 2016 میں ان کی لیک ہونے والی برہنہ تصاویر بھی 2000 سے قبل لی گئی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *