’جنسی ہراسانی‘ کیا ہے اور پاکستانی قانون اس حوالے سے کیا کہتا ہے؟

آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کی فلم اکیڈمی ’ایس او ایس‘ نے اپنی اینیمیٹڈ آگاہی مہم کے سلسلے میں انتہائی اہم ویڈیو جاری کردی۔

شرمین عبید چنائے فلم اکیڈمی گزشتہ 2 سال سے آگاہی مہم کے سلسلے میں خواتین اور بچوں پر تشدد سمیت ان کے حقوق سمیت ماحولیاتی آلودگی اور دیگر معاملات پر مختصر اینیمیٹڈ ویڈیوز جاری کرتی آ رہی ہیں۔

’جنسی ہراسانی‘ کے اہم ترین مسئلے سے قبل ایس او ایس فلم اکیڈمی کی جانب سے خواتین پر گھریلو تشدد کرنے سمیت بچوں پر تشدد کرنا اور ایف آئی آر درج کروانے جیسے معاملات پر آگاہی اینیمیٹڈ ویڈیوز جاری کی گئی تھیں۔

’جنسی ہراسانی‘ سے متعلق 3 منٹ 14 سیکنڈز دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں آسان الفاظ میں سمجھایا گیا ہے کہ ’جنسی ہراسانی‘ کیا ہے اور اس حوالے سے پاکستانی قانون کیا کیا کہتا ہے؟

ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنیاں یا ملازمت فراہم کرنے والے ادارے ’جنسی ہراسانی‘ کی روکتھام کے لیے کیا کیا اقدامات کرنے کے پابند ہیں اور ایسا نہ کرنے والے اداروں اور کمپنیوں کو قانون کس طرح کی سزا دینے کا حکم دیتا ہے۔

مختصر ویڈیو میں جنسی ہراسانی کی تشریح کی گئی ہے—اسکرین شاٹ
مختصر ویڈیو میں جنسی ہراسانی کی تشریح کی گئی ہے—اسکرین شاٹ

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر ’جنسی ہراسانی‘ کی شکایت کرنے والی خاتون کو کہا جاتا ہے کہ یہ عمل اور مسائل تو دنیا کی ہر خاتون کے ساتھ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ایسی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے، جو کہ غلط مشورہ ہوتا ہے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’جنسی ہراسانی‘ کسی کے ساتھ بھی اس کے گھر میں، اس کی کام کی جگہ پر، عوامی سواری کے سفر کے دوران اور کسی بھی عوامی مقام میں ہو سکتی ہے۔

ویڈیو میں آگاہی دی گئی ہے کہ ’غیر اخلاقی گفتگو، نامناسب حرکت اور غیر مناسب رابطہ‘ جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں، یہاں تک کہ خوتین کے ساتھ چھیڑ خانی اور بدسلوکی دفعہ 509 کے تحت غیر قانونی اور قابل سزا جرم ہے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جنسی ہراسانی کے لیے لازمی نہیں کہ خاتون دفتر میں ہی موجود ہو بلکہ یہ عمل ان کے ساتھ کہیں بھی ہوسکتا ہے۔

ویڈیو میں جنسی ہراسانی سے متعلق شق 509 کی بھی وضاحت کی گئی ہے—اسکرین شاٹ
ویڈیو میں جنسی ہراسانی سے متعلق شق 509 کی بھی وضاحت کی گئی ہے—اسکرین شاٹ

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جنسی مطالبہ کو پورا نہ کرنے پر سزا کے طور پر عہدے سے تنزلی کرنا، ملازمت سے برطرف کرنا یا ملازمت پر نہ رکھنے جیسے عوامل بھی جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔

آگاہی ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کام کی جگہوں پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے پر دفعہ 509 کے تحت ملزم کے خلاف شکایت اور کارروائی کی جا سکتی ہے اور اس کی سزا تین سال قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں ہی سزائیں ہوسکتی ہیں۔

اینیمیٹڈ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی کمپنی یا ادارہ بھی دفعہ 509 کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام کی جگہ پر ’جنسی ہراسانی‘ سے متعلق معلومات آویزاں کرے اور ’جنسی ہراسانی‘ کی روکتھام کے لیے سخت ضوابط اپنائے۔

ویڈیو کے مطابق جنسی ہراسانی کو روکنے کے لیے سخت ضوابط نہ اپنانے والے اداروں اور دفاتر پر بھی ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا اور ایسے ضوابط نہ بنانے والے اداروں کے خلاف ملازمین ضلعی محتسب سمیت صوبائی گورنر اور صدر مملکت سے شکایت کر سکتے ہیں۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جنسی مطالبات کے عوض ملازمت سے نکالنا یہ نوکری نہ دینا بھی جنسی ہراساں کے زمرے میں آتا ہے—اسکرین شاٹ
ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ جنسی مطالبات کے عوض ملازمت سے نکالنا یہ نوکری نہ دینا بھی جنسی ہراساں کے زمرے میں آتا ہے—اسکرین شاٹ

ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنیاں یا ادارے اس بات کے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ اپنے دفتر میں ’جنسی ہراسانی‘ کی شکایات کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائیں اور مذکورہ کمیٹی میں کم سے کم ایک خاتون رکن کا ہونا لازمی ہے۔

آگاہی ویڈیو کے مطابق دفتری کمیٹی تفتیش کے بعد جرم ثابت ہونے پر کسی کو جنسی ہراساں کرنے والے ملزم کے خلاف متعدد قسم کی سزائیں تجویز کر سکتی ہے۔

ویڈیو کے مطابق کمیٹی کسی کو جنسی ہراساں کرنے والے ملزم کو سخت ڈانٹ ڈپٹ کرنے، اسے ملازمت سے برطرف کرنے، اس کی ترقی روکنے اور تنزلی کرنے سمیت متاثرہ شخص کو جرمانہ ادا کرنے جیسی سزائیں تجویز کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *