سکھ بھارت سے ٹماٹر لے کرکرتار پور پہنچ گئے

کرتارپور راہداری سے سکھ یاتری ٹماٹر لیکر گردوارہ بابا گورونانک پہنچ گئے۔ بھارت سے آئے سکھ یاتری پاکستان میں ٹماٹروں کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر ٹماٹر لیکر آئے  جسے لنگر میں استعمال کیا گیا۔کرتا پور میں باباگرونانک کے لنگر میں اب مشرقی پنجاب سے آئے ٹماٹر استعمال ہوں گے، سکھ یاتریوں نے بتایا  ٹماٹر بھارت میں 20روپے کلو اور پاکستان میں 400 روپے فروخت ہو رہا ہے ، ٹماٹر بیچنے کے لیے نہیں بلکہ لنگر میں حصہ ڈالنے کے لیے لائے ہیں۔یاتری ادرک، سبز مرچ، لہسن اور پیاز بھی لائے تھے، آنے والوں کا کہنا تھا ان کے لائے ہوئے ٹماٹر، سنگتوں کو مزے دار کھانوں کی فراہمی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ہم دنیا بھر سے باباگورونانک کیلئے تحائف لاتے ہیں۔کینیڈا سے آئے ایک یاتری نے کہا پاکستان میں گردواروں کی مثالی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ملائیشیا سے آئے سریندر سنگھ نے کہا پاکستان نے کرتارپور راہداری بنا کر محبت کا پیغام دیا ہے۔سردار سرشین سنگھ نے کہا کرتارپور راہداری سے دونوں ممالک میں مثبت تعلقات فروغ پائیں گے، ملائیشیا، کینیڈا، فرانس، اٹلی اور بھارت سے آئے سکھ یاتریوں نے کرتار پور راہداری کھولنے پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *