پاکستان میں مظلوم کی آہ وہ کار کون سنے گا سندھ کی گل سمان رند کو کیوں سنگسار کیا گیا

جب سندھ میں غیرت کے نام پر معصوم گل سمان رند سنگسار ہورہی تھی، پتھر لگنے سے جسم زخمی اور ہڈیاں ٹوٹ رہی تھیں تو معصوم بچی نے کتنی دردناک چیخیں نکالی ہوگی، کتنی روئی ہوگی، بچاؤ بچاؤ کے کتنے درخواستیں کی ہوں گی، رحم کی کتنی اپیلیں کی ہوں گی، درد کے مارے کتنی تڑپی ہوگی اور خون میں لت پت گل سمان رند نے بچنے کیلئے کتنے ہاتھ پاؤں چلائے ہوں گے اور مرنے سے پہلے کتنا درد برداشت کیا ہوگا؟؟؟
جرم فقط اتنا تھا کہ قریبی عزیزوں نے تیرہ سالہ گل سمان رند کا رشتہ مانگا۔ ماں نے جواب دیا کہ گل سمان کی عمر کم ھے لہذا فلحال رشتہ نہیں دے سکتی ہوں۔ چند ماہ بعد عزیزوں نے گل سمان پر کاری کا الزام لگایا اور جرگہ نے سنگسار کا فیصلہ سنایا اور سماج کے انسان نما درندوں نے جرگہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے پتھر مار مار کر قتل کیا اور بطور ثواب قبر کو بھی پھانسی دی۔
یہ سانحہ پاکستان میں انسان اور انسانیت کا قتل ھے۔ حکومت اور عدلیہ ایسے سانحات رکوانے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایسی سانحات رکوانے کی بجائے پارلیمان تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان بھر میں کمزوروں خصوصاً خواتین پر ظلم و ستم جرم تصور نہیں ہوتا۔ سزا اور انصاف کا نظام ختم ھے۔ کسی ادارے سے مظلوموں اور کمزوروں کو انصاف کی امید نہیں ھے۔ بس باری باری ھے کہ کب کس کی باری ھے؟؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *