وزیر اعظم کی ناک کے نیچے والی بال کے کھلاڑی کا قتل کان پر جوں تک نہ رینگی مثالیں ریاست مدینہ کی حالات کوفہ و کربلا والے

جناب وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب !
آپ روزانہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں لیکن آپ کی رہایش گاہ سے فقط دس کلومیٹر کی مسافت پر ماں باپ کا اکلوتا بیٹا محسن فاروق قتل ہوجاتا ہے ،جس کے غم میں پورا پنجاب سوگ میں مبتلا ہے ،سوشل میڈیا پر ہر طرف محسن چلا گیا محسن چلا گیا کی پکار ہے لیکن آپ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔۔۔!


ایک ایسا واقعہ جس پر آئی جی اسلام آباد کو فوری نوٹس لینا چاہیے تھا اور تحقیقات کرتے لیکن ان کے نیچے افسران جان بوجھ کر اس کیس کو خراب کر رہے ہیں اور حادثاتی موت کے ساتھ ساتھ مقتول کو بدکردار ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔!
پولیس کے مطابق محسن کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس نے خود چھلانگ لگائی۔۔!
میرا چھوٹا سا سوال ہے کہ کیا کوئی بغیر جرم کیے فقط پولیس کے ڈر سے پانچ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگا سکتا ہے ؟
آج کل ہر بندے کے ہر ڈپارٹمنٹ میں تعلق دار ہوتے ہیں ،محسن فاروق تو پورے پنجاب کا ہیرو تھا کیا اس کا اسلام آباد پولیس میں جاننے والا کوئی نہیں تھا جو ڈر مارے چھلانگ لگا گیا ؟۔
پولیس کی طرف سے پہلا بیان آیا کہ ان کے ساتھ تین لڑکیاں بھی تھیں اب فقط ملزمان کو بچانے کے لیے ایک لڑکی کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے کہ میں محسن کے ساتھ کمرے میں موجود تھی اگر واقعی لڑکیاں موجود تھی تو باقی دو لڑکی کو کیوں نہیں شامل تفتیش کیا جا رہا۔۔
دوسرا بحریہ ٹاؤن میں نائٹ پارٹیاں منعقد ہوتی ہیں تو انتظامیہ کی اجازت سے ہوتی ہیں ،سکیورٹی کو ہر چیز معلوم ہوتی ہے اور انہیں اس طرح اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔۔
اور بحریہ ٹاؤن کے فلیٹس میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہوتی جہاں سے سلپ ہو کر گرنے کا خطرہ ہو۔۔!
اصل میں یہ قتل ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اب پولیس ملزمان سے مل گئی ہے اور جان بوجھ کر کس خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔۔!
پولیس کے لئے تو لوگ روز مرتے ہیں ،ان کے لئے محسن فاروق کی کیا اہمیت تھی یا ہوگی ؟جیتے جی تو وہ والدین مر گئے جن کا اکلوتا بیٹا اس دنیا فانی کو چھوڑ گیا یا چوہدری محسن فاروق کے فین اس دکھ کو سمجھ سکتے ہیں ،جو ایک عظیم ہیرو سے محروم ہوگے۔۔اللہ‎ جنت الفردوس میں جگہ دے اور مغفرت فارمے امین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *