خواتین ججز کوشش کریں، عدالتوں میں مردوں کی طرح سخت رویہ اختیار نہ کریں، چیف جسٹس

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ خواتین ججز بہت سارے مقدمات میں بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اس لیے کوشش کریں کہ عدالتوں میں مرد ججوں کی طرح سخت رویہ اختیار نہ کریں بلکہ مقدمات کی کارروائی اور فیصلوں پر توجہ دیں۔

لاہور میں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر انتظام تیسری خواتین ججز کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بہت سارے وکلا خواتین ججز کے سامنے پیش ہونے کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں، خواتین ججوں کو نااہل سمجھا جاتا ہے لیکن بطور خواتین ججوں فریقین آپ کے رویے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ججوں کی عدالتوں سے مقدمات ٹرانسفر کرنے کی درخواستیں دی جاتی ہیں لیکن خواتین ججز اپنے رویے، کوڈ آف کنڈکٹ اور فیصلوں سے منفی لوگوں کی سوچ کو بدلیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نام نہاد مردوں کی دنیا میں خواتین ججوں کو غیرمعمولی اقدامات کرنے پڑتے تھے جو بہت مشکل اور سخت ہوتے ہیں تاکہ انہیں سنجیدہ لیا جائے لیکن خواتین کو عدالتوں میں ان کی کارروائی کے مطابق سنجیدہ لیا جائے کہ وہ مقدمے کو کس طرح لے کر چلتی ہیں اور کیا فیصلہ کرتی ہیں جو میرے تصور میں ایک اچھے جج کی نشانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں ججوں کا سخت رویہ وکلا اور فریقین پر برا اثر ڈالتا ہے. عدالتوں کو شائستہ انداز میں میرٹ اور قانون کے مطابق چلائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین کو معاشرے میں مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے، وراثت میں حق کا معاملہ ہو یا روزمرہ گھریلو تشدد کا سلسلہ، خواتین کی اکثریت ایسے مظالم کا شکار ہے، ہمارا آئین اور مختلف قوانین خواتین کو خاص حقوق دیتے ہیں، ضابطہ فوجداری کے تحت خاتون ملزم کو ضمانت کے حصول میں آسانی موجود ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ڈسٹرکٹ عدالتیں اور ہائی کورٹس کے بعد بہت جلد سپریم کورٹ می‍ں بھی خواتین جج بینچ کا حصہ ہوں گی۔

علاوہ ازیں جینڈر بیسڈ کورٹس (صنفی امتیاز سے متعلق الگ عدالتوں کے قیام) سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہمیں جنت میں جانے کا حکم ہوا تو جینڈر بیسڈ کورٹس کی وجہ سے ہوگا کیونکہ معاشرے کے مظلوم افراد کو بہترین انصاف کی فراہمی بہت بڑی عبادت ہے۔

چیف جسٹس نے حال ہی میں ہونے والی ایک عالمی کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے آئے ہوئے ججوں نے بڑے فخر سے کہا کہ ہمارے ہاں جینڈر بیسڈ عدالتیں ہیں جس پر میں انہیں بتایا کہ ہمارے ملک میں 116 اضلاع اور ہم 116 جینڈر بیسڈ عدالتیں بنانے جارہے ہیں، جرائم ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو عدالتوں تک پہنچنے کے ذرائع محدود ہوتے ہیں جن کو آسان بنانا ہوتا ہے۔

ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے تعاون پر چیف جسٹس نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ججوں کی تربیت کررہے ہیں اور پیسہ بھی خرچ کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدالتوں میں انصاف کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں، ہمیں مقدمات کی ایک کاز لسٹ دی جاتی ہے جو ہمارے پاس امانت ہوتی ہے، اگر ہم پوری کاز لسٹ میں موجود مقدمات نہیں سن لیتے تو لوگوں کی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں جج کے علاوہ بھی کئی افراد موجود ہوتے ہیں لیکن فیصلہ جج کو کرنا ہوتا ہے اسی لیے دوسروں اور جج میں فرق ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس جولائی میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وکلا کی تربیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدلیہ بحالی تحریک کے بعد وکلا کی عزت کی بحالی سے متعلق تحریک کی ضرورت ہے کیونکہ وکلا بڑی تیزی سے اپنی عزت گنوا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور طب کے شعبے بہت مقدس ہیں اور دھوکا دینے والوں کے لیے عدلیہ اور شعبہ طب میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

قبل ازیں کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدلیہ میں جج اور وکیل کی حیثیت سے خواتین کی شمولیت سماجی اور معاشرتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سمیت عدالتوں میں خواتین ججوں کی شمولیت کو یقینی بنا رہے ہیں۔

نامزد چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ‘سپریم کورٹ سمیت تقریباً 3 ہزار سے زائد جج ہیں اور دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ان میں خواتین ججوں کی تعداد تقریباً 500 ہے جو معاملے کو تشویش ناک ظاہر کررہا ہے کیونکہ یہ ان کی آبادی کے مطابق نہیں ہے’۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ‘ہم بطور ادارہ تجویز دیتے ہیں کہ جتنا ممکن ہو پاکستان کی عدلیہ میں خواتین کی شمولیت کے لیے اقدامات کیے جائیں، سپریم کورٹ آف پاکستان میں اب بھی کوئی خاتون جج نہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ویمن ججوں کی سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں تعیناتی کو یقینی بنایا جائے گا کیونکہ عدلیہ اور دیگر شعبوں میں ویمن ججوں کی شراکت کے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *