حکومت کا ملک میں ‘شیل گیس’ کے ذخائر دریافت کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے ملک میں ‘شیل گیس’ کے ذخائر دریافت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا۔

پیٹرولیم ڈویژن حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں شیل گیس کے 95 ٹریلین کیوبک فٹ یعنی 14 ارب بیرل کے ذخائر کا اندازہ ہے، آئندہ ماہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) شیل گیس کی تلاش شروع کرے گی۔

حکام نے کہا کہ ملک میں پہلی شیل گیس پالیسی بنانے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کُنڑ پیساکھی میں آزمائشی بنیاد پرشیل گیس کی تلاش شروع کریں گے، شیل گیس کے ذخائر کے لیے یہ پائلٹ اور مہنگا پراجیکٹ ہے۔

کمیٹی اراکین کو ڈی جی پیٹرولیم کنسیشن عمران احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تیل و گیس کی اب تک 394 دریافتیں ہوئیں، ان میں 309 دریافتیں گیس اور 85 دریافتیں تیل کی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دریافتوں میں کامیابی کی شرح 34 فیصد رہی جبکہ فعال دریافتوں کے لائنس کی تعداد 133 ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انرجی مکس 75 فیصد تیل و گیس پر مشتمل ہے، انرجی مکس میں گیس کا حصہ 34 فیصد، تیل 31 فیصد اور کوئلہ 13 فیصد ہے جبکہ یومیہ تیل کی پیداوار 89 ہزار بیرل ہے جس میں او جی ڈی سی ایل کا حصہ 45 فیصد ہے۔

واضح رہے کہ شیل گیس قدرتی گیس کی ایک قسم ہے جو زیر زمین باریک ریت کے ذروں اور مٹی سے بننے والی تہہ دار چٹانوں سے حاصل کی جاتی ہے جسے مَڈ اسٹون (Mudstone) کہا جاتا ہے۔

بلیک شیل میں پائے جانے والے نامیاتی اجزا کو توڑ کر گیس اور تیل حاصل کیا جاتا ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر بہرہ مند تنگی نے وزیر پیٹرولیم عمر ایوب کی عدم حاضری پر احتجاج کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب سے عمر ایوب وزیر پیٹرولیم بنے ایک بار بھی اجلاس میں نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان سے بھی سینیٹرز اجلاس میں شرکت کے لیے آئے ہیں، کیا کمیٹی کی اتنی اوقات نہیں کہ وفاقی وزیر اجلاس میں شرکت کریں؟

چئیرمین کمیٹی نے عمر ایوب کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر کو خط لکھ کر کمیٹی کے تحفظات سے آگاہ کروں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *