‘سابق فوجی افسر کا کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کا بیان بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے’

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر و میجر جنرل ریٹائرڈ ایس پی سنہا کے بیان کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

سینیٹر رحمٰن ملک کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں میجر جنرل ریٹائرڈ ایس پی سنہا کے غیر اخلاقی و غیر انسانی بیان کی شدید مذمت کی گئی۔

قرارداد چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمٰن ملک نے پیش کی تھی۔

سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ میجر جنرل ریٹائرڈ ایس پی سنہا کا بیان بی جے پی و بھارتی آرمی کے ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی افسر کا کشمیری خواتین کی آبرو ریزی کا بیان بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

سینیٹر رحمٰن ملک نے اقوام متحدہ و انسانی حقوق کی تنظیموں کو ریپ کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی وکالت پر ایس پی سنہا کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھارتی ٹی وی چینل ‘ٹی وی 79’ کے ایک شو میں میجر جنرل (ر) ایس پی سنہا نے کہا تھا کہ ’موت کا بدلہ موت، ریپ کا بدلہ ریپ‘۔

علاوہ ازیں صدر مملکت عارف علوی نے بھی سابق بھارتی فوجی افسر کے کشمیری خواتین کے ریپ کی وکالت کرنے والے بیان کو ’ذلت آمیز‘ قرار دے دیا تھا۔

اس ضمن میں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ ’میں متعدد مرتبہ حکومت سے مطالبہ کرچکا ہوں کہ بھارت و وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف عالمی عدالتوں میں جائے‘۔

سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ ’ہم گیمبیا کے وزیر قانون پر فخر کرتے ہیں کہ وہ روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی عدالت میں گئے اس لیے حکومت پاکستان گیمبیا کے وزیر قانون کو پاکستان بلا کر تمغہ دے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کو ترجیح پر رکھے تاکہ مظلوم کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے آزادی مل جائے اور وقت ہے کہ نریندر مودی کو عالمی عدالتوں میں گھسیٹا جائے اور ان کا محاسبہ ہو۔

واضح رہے کہ بھارت نے رواں برس اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اب تک وادی میں کرفیو اور مواصلات کا نظام معطل ہے۔

علاوہ ازیں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں اور اداروں کے نام بھی بدلنا شروع کردیے۔

گزشتہ کئی سالوں سے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھارتی فوج پر کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جارہا تھا جس میں جسمانی تشدد، جنسی استحصال اور جبری حراستیں شامل ہیں۔

تاہم بھارتی حکومت ان الزامات کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دے کر مسترد کردیتی ہے۔

علاوہ ازیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے 1989 سے بھارتی فوج پر ریپ، بدفعلی، واٹر بورڈنگ، حساس اعضا کو بجلی کے جھٹکے لگانے، جلانے اور سونے نہ دینے جیسے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے گزشتہ برس انسانی حقوق کی تنظیموں کے لگائے گئے الزامات کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاراچنار میں 5 سالہ گل سکینہ کے ریپ کے بعد قتل کا سخت نوٹس لیا۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے گل سکینہ کے ریپ و قتل پر شدید دکھ و درد کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ پاراچنار کے گاؤں پیواڑ میں 5 سالہ گل سکینہ کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے مطابق گل سکینہ اسکول گئی تھی مگر واپس نہ آئی اور بعدازاں اس کی لاش پانی کے تالاب سے ملی تھی۔

اس ضمن میں سینیٹر رحمٰن ملک نے سیکریٹری داخلہ، خیبرپختونخوا حکومت اور آئی جی پولیس کو ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔

رحمٰن ملک نے آئی جی پولیس کو گل سکینہ کے ریپ و قتل پر جامع رپورٹ 10 روز کے اندر کمیٹی کو جمع کرانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ننھی بچی گل سکینہ کے قاتل کو فوری گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ننھے بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے و قتل کرنے والے ظالموں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ عبرت حاصل ہو۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی پولیس خیبرپختونخوا خود گل سکینہ کے قتل کی تفتیش کی نگرانی کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *