4 برس بعد کرنٹ اکاؤنٹ میں مثبت اضافہ

ملکی معیشت میں 4برس کے بعد اکتوبر کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مثبت اضافہ ہوا تاہم 4 ماہ کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ڈیڑھ ارب ڈالر رہا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

ملک کا موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ مالی سال کے 19 ارب 90 کروڑ ڈالر سے 36 فیصد کم ہوکر 12 ارب 75 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

رواں برس اکتوبر کے اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ کرنٹ اکاؤنٹ میں گزشتہ برس اکتوبر کے ایک ارب 28 کروڑ ڈالر کے نیٹ خسارے کے مقابلے میں 9 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔

جولائی تا اکتوبر کے عرصے کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ برس کے 5 ارب 60 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں ایک ارب 47 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 4 ماہ سے خسارے میں تیزی سے کمی معیشت میں قابل ذکر بہتری کی عکاس ہے۔

تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات میں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تیزی سے کمی آئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 19 ارب ڈالر سے 14 ارب 65 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

تاہم برآمدات گزشتہ برس کے 7 ارب 90 ڈالر کے مقابلے میں 8 ارب 22 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

اسی طرح جولائی تا اکتوبر کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے 11 ارب ڈالر کے مقابلے میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

تاہم اس عرصے کے دوران خدمات کی تجارت میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کوئی قابلِ ذکر تبدیلی نہیں آئی۔

گزشتہ 4 ماہ کےدوران خدمات کی تجارت گزشتہ برس کے اسی عرصے کے ایک ارب 70 کروڑ 90 لاکھ مقابلے میں ایک ارب 74 کروڑ 90 لاکھ رہی، دوسری جانب خدمات کی برآمدات مالی سال 2018 کے 3 ارب 7 کروڑ 60 لاکھ کے مقابلے میں 3 ارب 11 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی۔

خدمات کا تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے ایک ارب 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں ایک ارب 36 کروڑ 80 لاکھ تک پہنچ گیا۔

رواں مالی سال میں آمدن کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے حکومت کو غیرملکی اکاؤنٹس بہتر بنانے میں مدد ملی ہے، مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حجم میں 238 فیصد اضافہ ہوا۔

ایکویٹی مارکیٹ کو بھی غیرملکی سرمایہ کاری موصول ہورہی ہے جبکہ حکومت کے سیکیورٹی پیپرز پر 80 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری موصول ہوئی ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ میں مثبت اضافہ اور خسارے میں کمی کی بنیادی وجہ درآمدات میں بڑے پیمانے پر کمی تھی۔

تاہم درآمدات میں کمی کے باعث معاشی سرگرمیوں کے سست رجحان کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس سے جی ڈی پی کی شرح متاثر ہوگی۔

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی ملک کے لیے بڑی کامیابی ہے اور میکرو اکنامک استحکام کی علامت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *