’ہم اسلام آباد ایسے نہیں گئے تھے اور نہ ہی ایسے واپس آئے ہیں‘

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تحریک انصاف کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ تمھاری جڑیں کٹ چکی اور دن گنے جا چکے ہیں، ہم اسلام آباد ایسے نہیں گئے تھے اور نہ ہی وہاں سے ایسے واپس آئے ہیں۔

واضح رہے کہ جے یو آئی نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد کے پشاور موڑ پر آزادی مارچ کے تحت 13 روزہ دھرنا دینے کے بعد پلان ‘بی’ کے تحت نئے محاذ پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

اسی پلان بی کے تحت ہونے والے احتجاج کے دوران بنوں میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران سب کو چور کہتے رہے لیکن ان کے ہی بنائے گئے کمیشن نے رپورٹ دی کہ ایک پیسے کی خورد برد نہیں ہوئی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ سب پر الزام لگایا کہ پاکستان سے باہر پیسہ گیا، منی لانڈرنگ ہوئی لیکن اب ایف بی آر کے چیئرمین نے بیان دیا کہ کوئی پیسہ پاکستان سے باہر نہیں گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران معیشت برباد کرنے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں لیکن جب تک پاکستان کے وفادار زندہ ہیں تب تک پاکستان کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

دوران خطاب مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی بہن کو ایمنسٹی اسکیم کے تحت این آر او دیا۔

جے یو آئی کے سربراہ نے الزام لگایا کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے اسرائیل اور بھارت سے پیسہ لیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس گزشتہ 5 برس سے زیر التوا ہے، جس کا فیصلہ نہیں ہورہا جبکہ مقدمے کو خارج کرنے کے لیے دائر درخواستیں بھی مسترد کردی گئیں ہیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان سے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر اختلاف کے بعد پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

اکبر ایس بابر نے الزام لگایا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

اپنے خطاب میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم نے ہمارے اوپر الزام لگائے لیکن کچھ سامنے نہیں لا سکے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ذاتی طورپر چینلج کرتا ہوں کہ آؤ اپنے اور میرے کردار کا مقابلہ کرو، میرے والد اور دادا کا تم اپنے والد اور دادا سے مقابلہ کرو‘۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ ’ہم کسی ادارے کے پیچھے چھپنے والے نہیں ہیں جبکہ تمہاری مثال ہے کہ چور مچائے شور، ان باتوں سے حکومت نہیں چلتی اس لیے قوم کو دوبارہ الیکشن کی طرف جانا ہوگا‘۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک کے بچوں اور نوجوانوں کو غلط تصویر پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے عوام کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے ساتھ مل کر ایک مشقت برداشت کی اور اس کا مقصد مل کر ہماری ترقی کے راستے میں پڑے اس پتھر کو ہٹانا تھا۔

خیال رہے کہ ‘آزادی مارچ’ کے سلسلے میں ملک بھر سے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص جے یو آئی (ف) کے قافلے 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے تھے اور 13 روز تک جے یو آئی (ف) کی قیادت میں آزادی مارچ کے شرکا نے اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں پڑاؤ ڈالا تھا۔

اس عرصے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے، تاہم مولانا فضل الرحمان کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے کو لے کر ڈیڈ لاک برقرار رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *