مصباح نے باؤلرز کو اسمتھ کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے کا ہدف دیدیا

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے دوران اپنے فاسٹ باؤلرز کو سابق آسٹریلین کپتان اسٹیون اسمتھ کی کمزوریوں کو نشانہ بنانے کا ہدف دے دیا۔

اسٹیون اسمتھ پر گزشتہ سال بال ٹیمپرنگ کے الزام میں ایک سال کی اپبندی عائد کی گئی تھی لیکن اس پابندی کے بعد ایشز سیریز کے ذریعے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کرنے والے اسمتھ نے اپنی سابقہ فارم کو برقرار رکھتے ہوئے ایشز سیریز میں اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرایا۔

نامور آسٹریلین بلے باز نے سیریز کے ایک ٹیسٹ میچ میں حصہ بھی نہیں لیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ 4 ٹیسٹ میچوں کی 7 اننگز میں 774 رنز اسکور کیے۔

اسٹیون اسمتھ کی آسٹریلین بیٹنگ لائن میں اہمیت اور ان کی فارم کو دیکھتے ہوئے مصباح الحق ان کے خطرے سے آگاہ ہیں اور اسی لیے انہوں نے اپنے فاسٹ باؤلرز کو سابق آسٹریلین کپتان کو نشانہ بنانے کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہا کہ کسی کو بھی اس بات میں شک نہیں ہونا چاہیے کہ سیم ہوتی ہوئی گیند کو کھیلنا کرکٹ میں سب سے مشکل کام ہے، آب کے پاس ردعمل کا وقت نہیں ہوتا لہٰذا آپ کو لائن میں آ کر کھیلنا ہوتا ہے اور اگر یہ گیند اندر آئے تو آپ کے باؤلڈ یا ایل بی ڈبلیو ہونے کا امکان ہوتا ہے جبکہ گیند کے باہر نکلنے کی صورت میں کیچ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

مصباح نے کہا کہ جہاں تک اسٹیون اسمتھ کی بات ہے تو دنیا کے ہر بلے باز کی ایک کمزوری ہوتی ہےاور ایک باؤلر ہونے کے ناطے آپ کو اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی بھی ہونی چاہیے، ہمارے لیے مستقل مزاجی سے گیند کرنا اہم ہے، اس وقت ہمارے باؤلرز منصوبوں پر بہت اچھے سے عمل کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم اچھی باؤلنگ سے دباؤ قائم کر کے اننگز کی ابتدا میں وکٹیں حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بلے باز چاہے کتنی ہی اچھی بیٹنگ کیوں نہ کر رہا ہو، جب آپ مستقل مزاجی کے ساتھ ایک ہی جگہ گیند کرتے ہیں تو دباؤ بڑھتا ہے اور ایسی صورت میں بیٹسمین غلطی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ مستقل مزاجی سے گیند نہ کریں تو دنیا کے اچھے بلے باز آپ کی غلطی سے فائدہ اٹھانے کا فن جانتے ہیں لہٰذا آپ کو بھرپور ڈسپلن کے ساتھ باؤلنگ کرنی ہو گی۔

آسٹریلیا کے دورے پر موجود پاکستان کا باؤلنگ اٹیک انتہائی ناتجربہ کار ہے جس میں سب سے تجربہ کار باؤلر محمد عباس ہیں اور انہیں دو سے تین سال بعد ٹیم میں واپس آنے والے عمران خان جونیئر کے ساتھ ساتھ 19سالہ محمد موسیٰ اور شاہین شاہ آفریدی جبکہ 16سالہ تیز رفتار نسیم شاہ کا بھی ساتھ میسر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *