کرتارپور راہداری کھولنا مثبت پیش رفت ہے، امریکا

واشنگٹن: امریکا نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح پاکستان اور بھارت کے باہمی مفاد کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ایک ویڈیو پیغام میں محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن آرٹاگس نے کہا کہ اس نئی پیش رفت کا آغاز ‘مذہبی آزادی کو فروغ’ دینے کی جانب مثبت اقدام ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کہا گیا کہ محکمہ خارجہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتار پور راہداری کے افتتاح کا خیرمقدم کرتا ہے، ہم اسے باہمی مفاد کے لیے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین مثبت مثال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مورگن آرٹاگس نے کہا کہ کرتارپور راہداری مذہبی آزادی کو فروغ دینے کی سمت ایک قدم ہے، اس سے بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستانی سرحد کے اندر واقع گردوارہ کرتار پور صاحب کا دورہ کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس اقدام پر بھارت اور پاکستان کو مبارکباد دیتے ہیں اور گرونانک کے 550 جنم دن کے موقع پر زائرین کو ہماری نیک خواہشات پیش کرتے ہیں’۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سکھ برادری کے مذہبی پیشوا باباگرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کیا تھا۔

پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع کرتارپور میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان کے علاوہ بھارت سے بھی شخصیات نے شرکت کی تھی۔

اس کے علاوہ بھارت سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امرندر سنگھ، سابق کرکٹر اور سیاستدان نووجوت سنگھ سدھو، بالی وڈ اداکار سنی دیول و دیگر سمیت ہزاروں سکھ یاتریوں نے شرکت کی تھی۔

قبل ازیں کرتارپور آمد پر وزیراعظم عمران خان نے ٹرمینل ون اور امیگریشن کاؤنٹرز کا دورہ کیا اور یاتریوں کے لیے چلائی جانے والی شٹل سروس سے گوردوارہ پہنچے، جہاں انہوں نے گوردوارے کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔

کرتارپور راہداری کی افتتاحی تقریب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرتارپور کے دروازے دنیا بھر کے سکھ یاتروں کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 72 برس ہوگئے، مقبوضہ کشمیر کے عوام انصاف کے منتظر ہیں، ایک وعدہ ہم نے پورا کیا اب ایک آپ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *