نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج نہ ہوسکا، لندن روانگی میں تاخیر

لاہور/اسلام آباد: حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج نہ کیے جانے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے قائد علاج کے لیے آج (10 نومبر کو) لندن روانہ نہیں ہوسکے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) اور وزارت داخلہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے سے متعلق کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ‘نواز شریف نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی پرواز سے اتوار کی صبح اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ لندن کے لیے روانہ ہونا تھا، تمام انتظامات مکمل ہوگئے تھے لیکن آخری لمحات میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ای سی ایل سے ان کا نام نہیں نکالا’۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ 8 نومبر کو حکومت نے کہا تھا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنا محض ایک رسمی کارراوئی ہے۔

ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘ہم حیران ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی یقین دہانیوں، ان کے مشیر نعیم الحق اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مثبت بیانات کے باوجود نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں ہٹایا جاسکا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حوالے سے کہیں کوئی مسئلہ موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ‘نواز شریف کی طبیعت انتہائی تشویشناک ہے جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بدتر ہوتی جارہی ہے کیونکہ ان کے پلیٹلٹس مستحکم نہیں ہورہے’۔

ذرائع نے بتایا کہ ‘نواز شریف کو اسٹیرائیڈز کے ذریعے سفر کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت کے بیانات اور عمل میں تضاد معاملات کو خراب کررہے ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے لیے یہ تاخیر ‘انتہائی خطرناک’ ہے کیونکہ ہر گھنٹہ اہم ہے۔

ذرائع نے کہا کہ ‘اگر نواز شریف کے سفر میں ایسی رکاوٹوں سے پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں تو کسے قصوروار ٹھہرایا جائے گا’۔

ایک عہدیدار نے کہا کہ ‘ایسا ظاہر ہوا کہ نیب اور وزارت داخلہ نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی اور کوئی فیصلہ نہیں کیا’۔

نیب نے میڈیکل رپورٹ طلب کی تاکہ نواز شریف کی صحت سے متعلق انہیں بیرون جانے کی اجازت دینے یا نہ دینے سے متعلق فیصلہ کیا جاسکے۔

قومی احتساب بیورو کے سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ نیب نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کے خط کے جواب میں لکھا تھا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق جاننے کے لیے ان کی میڈیکل رپورٹ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا گزشتہ روز ہمیں وزارت داخلہ سے خط موصول ہوا تھا جس میں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کے لیے نیب کی رضامندی طلب کی گئی تھی۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ ‘ہمارے جواب میں ہم نے وزارت داخلہ کو نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ موصول ہونے ہر نیب فیصلہ کرے گا۔

دوسری جانب وزارت داخلہ کے عہدیدار نے کہا کہ ہفتے کے روز تعطیل ہونے کے باوجود متعلقہ عملہ وزارت میں موجود رہا اور نیب کے جواب کا انتظار کیا۔

وزارت داخلہ کو توقع تھی کہ نیب کو شہباز شریف کی جانب سے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا تاہم نیب نے میڈیکل رپورٹ طلب کی ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے نیب کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ نواز شریف کی رپورٹس شریف میڈیکل سینٹر سے موصول ہوگئی ہیں جنہیں میڈیکل بورڈ کو بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اب یہ معاملہ پیر (11 نومبر) کو اٹھایا جائے گا’۔

عہدیدار نے کہا کہ ‘وزارت داخلہ نے شہباز شریف کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں اور حقائق کی روشنی میں اور تمام اسٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بعد مذکورہ معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو بھیجا جائے گا’۔

اس حوالے سے وفاقی کابینہ کے رکن نے ڈان کو بتایا ‘حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک سفر کی اجازت دینے میں نیب بھی اپنا کردار ادا کرے لیکن چیئرمین نیب اس حوالے سے محتاط دکھائی دے رہے ہیں’۔

تمام حلقوں سے این آر او کی باز گشت کے باعث وزیراعظم عمران خان کے ارادہ بدلنے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ایسا کچھ نہیں ہے’۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کے لیے 2 روز قبل وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ سے رہائی کے احکامات کے بعد 6 نومبر کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے لیے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت شعبے کی سہولیات قائم کی گئی تھیں۔

قبل ازیں انہیں گزشتہ ماہ کے اواخر میں نیب لاہور کے دفتر سے تشویش ناک حالت میں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی پلیٹلیٹس کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں سابق وزیر اعظم کے علاج کے لیے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا اور کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے مرض کی تشخیص کی تھی تاہم نواز شریف کے پلیٹلیٹس کا مسئلہ حل نہ ہوسکا اور ان کی صحت مستقل خطرے سے دوچار رہی۔

اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے لیے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کر دی تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی نیب حراست سے رہائی سے متعلق تھی، جس پر 25 اکتوبر کو سماعت ہوئی تھی اور اس کیس میں عدالت نے ایک کروڑ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کردی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کے علاج کے حوالے سے واضح کیا کہ اگر ضمانت میں توسیع کی ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت سے دوبارہ درخواست کی جاسکتی ہے اور حکومت اس پر فیصلہ کر سکتی تاہم نواز شریف عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *