مقبوضہ کشمیر میں جشن عیدمیلادالنبیﷺ پر پابندی، پاکستان کی مذمت

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر جشن عیدمیلاد النبیﷺ کی مناسبت سے اجتماعات پر بھارتی حکام کی جانب سے عائد پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے دفعہ 144 سمیت دیگر پابندیوں کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ترجمان دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘بھارتی قابض فورسز نے سری نگر میں حضرت بل اور دیگر مقدس مقامات اور مساجد کی طرف جانے والے راستوں کو بند کردیا ہے اور اس مبارک موقع کی مناسبت سے نکلنے والے جلوسوں کو جبری طور پر روکا گیا ہے حالانکہ کشمیری روایتی انداز میں اس موقع کو مناتے ہیں’۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘میلادالنبیﷺ کے موقع پر جشن منانے اور دیگر اجتماعات پر پابندیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے جذبات کا احترام نہیں کیا جاتا اور یہ ان کے بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے’۔

کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی برادری سے اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے کشمیریوں کے مذہبی حقوق اور ان کی آزادی کو دبانے کا نوٹس لینا ہوگا جو عالمی قوانین اور کنونشز کی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان دفتر خاجہ کا کہنا تھا کہ ’14 ہفتوں سے زائد عرصے سے 80 لاکھ کشمیری 9 لاکھ بھارتی فورسز کے غیر انسانی لاک ڈاؤن کے زیر اثر ہیں’۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت فوری طور پر انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کو فوری طور پر بحال کرے وار سول سوسائٹی سمیت تمام زیر حراست شہریوں کو رہا کردے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر لاتعداد سیاسی کارکن اور رہنما گرفتار ہیں ان سب کو رہا کر دیا جائے اور ‘خاص کر کم عمر لڑکوں کو رہا کر دیا جائے’، دفعہ 144، پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر ظالمانہ قوانین کو ہٹا دیا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ آزاد میڈیا اور انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کو مقبوضہ خطے میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ آزادانہ طور پر کشمیریوں کی حالت زار کا جائزہ لے سکیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ‘بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے اظہار کی خواہشات کو دبا نہیں سکتی’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *