متحدہ عرب امارات کا ایران پر عالمی طاقتوں،علاقائی ممالک سے مذاکرات پر زور

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ ایران کو نئے معاہدے کے لیے عالمی طاقتوں اور خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے تاکہ اس معاہدے کے ذریعے علاقائی کشیدگی کم ہو اور تہران کو اپنی معیشت کو بحال کر سکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ ‘موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور ہمارا ماننا ہے کہ کامیابی کے لیے اجتماعی سفارت کاری کی کوئی جگہ نہیں ہے۔’

انہوں نے جنگ اور ‘عیب دار’ جوہری معاہدے کے درمیان ‘غلط انتخاب’ کے حوالے سے بھی خبردار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان پہلوؤں کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ علاقائی ممالک کو بات چیت کا حصہ بننے کی ضرورت ہے انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات صرف جوہری معاملے سے متعلق نہیں ہونے چاہیے بلکہ اس میں تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پروکسی گروپوں کے ذریعے علاقائی مداخلت سے متعلق پائی جانے والی تشویش پر بھی بات ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں ایران کے ساتھ معاہدے کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے جس پر ممکنہ طور پر جلد تمام فریقین دستخط کے لیے تیار ہوں گے، تاہم اس کے لیے صبر اور حوصلے سے کام لینا ہوگا۔’

انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ معاہدے کے لیے عالمی برادری بالخصوص امریکا، یورپی یونین کے ممالک اور ساتھ ہی علاقائی ممالک ایک صفحے پر ہوں۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب سمیت دیگر مقامات پر آئل ٹینکز اور سعودی عرب میں آئل انفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد سے خلیج میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

واشنگٹن نے عالمی توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کا الزام ایران پر لگایا تھا جسے اس نے مسترد کیا۔

چند روز قبل ایران کا کہنا تھا کہ اس نے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے فردو کے جوہری مقام پر یورینیم کی افزودگی بحال کردی ہے۔

امریکا نے معاہدے سے دستبردار ہوتے ہوئے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردی تھیں تاکہ تہران پر دباؤ بڑھانے کی اس کی مہم کو آگے بڑھایا جاسکے۔

متحدہ عرب امارات نے، جس کا کہنا ہے کہ ایران خطے کو غیر مستحکم کرنے والی طاقت ہے، اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کی حمایت کی تھی تاہم حملوں کے بعد اس نے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اسے امید ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے بعد ایران ایک جامع معاہدے کے لیے مذاکرات کا حصہ بننے پر مجبور ہوجائے گا۔

تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس وقت تک ایرانی حکام کے ان مذاکرات کا حصہ بننے پر پابندی لگادی تھی جب تک امریکا پہلے والے جوہری معاہدے کا حصہ نہیں بنتا اور تہران پر سے تمام پابندیاں نہیں اٹھاتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *