عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد ختم ہوچکا، جے یو آئی سینیٹر

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکریٹری جنرل اور سینیٹر عبد الغفور حیدری نے الزام عائد کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے آسیہ بی بی کو مغربی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے رہا کیا اور مغربی طاقتوں نے توہین رسالت کے قوانین میں نرم کرنے کے لیے عمران خان کو اقتدار میں لانے کی سازش کی۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد ختم چکا جو اپنی داغ دار ساخت کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے 8 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا۔

آزادی مارچ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے استعفیٰ نہ دیا تو جلد ہی ملک میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ ایک تحریک ہے اور یہ پورے ملک میں پھیل جائے گی، ہم شاہراہوں اور موٹر ویز بلاک کردیں گے اور اگر آپ (وزیر اعظم عمران خان) حکومت نہیں چھوڑتے تو ہم پورے ملک میں لاک ڈاون کردیں گے۔

دریں اثنا دارالحکومت اسلام آباد میں افواہیں گردش کررہی ہیں کہ جے یو آئی پیر (12 نومبر) سے لاک ڈاؤن منصوبوں پر عملدرآمد کرے گی۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری نے یاد دلایا کہ ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے توہین رسالت کی مرتکب آسیہ بی بی کو سزا سنائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد مغربی ممالک کو لگا کہ (پاکستان میں) ان کے خیالات کے مطابق معاملات ٹھیک نہیں ہیں لہذا انہوں نے عدالتوں کے خلاف سازشیں کیں اور دباؤ ڈالا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آخر کار مغربی طاقتوں نے اس وقت تک انتظار کیا جب عمران خان اقتدار میں آئیں اور پھر عدالتوں پر دباؤ ڈالنے کا کام منصوبہ بندی کے مطابق شروع ہو’۔

جے یو آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ آخر کار آسیہ بی بی کو رہا کیا گیا اور انہیں فوری طور پر بیرون ملک بھیج دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صرف مغربی طاقتوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ پاکستانی عوام ان سازشوں سے واقف ہیں۔

بعدازاں سینیٹر عبدالغفور نے شرکا کو توہین مذہب کے قوانین میں ہونے والی ترامیم کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی سے ان ترامیم کے بارے میں اپنے دلائل کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘سب سے بری بات یہ ہے کہ لوگ ہر طرح کے مقدمات میں 500 روپے میں گواہ کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں اور اگر توہین رسالت کے قوانین نرم ہوجائیں تو معاملات خراب ہوجائیں گے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ آخر کار حکومت نے مذکورہ ترامیم واپس لے لی۔

مدارس سے وابستہ دیگر مقررین نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو ترکی کے صدر طیب اردوان اور ملائیشیا کے رہنما مہاتیر محمد سے موازنہ کرتے ہوئے ملک کا اگلہ لیڈر قرار دیا۔

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر جے یو آئی (ف) کا دھرنا سیرت کانفرنس میں تبدیل کردیا گیا لیکن مقررین نے صرف سیاست کے بارے میں بات کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *