بھارت کے بعد انگلینڈ اور آسٹریلیا نے بھی آئی سی سی کی مخالفت کردی

بھارت کے بعد اب انگلینڈ اور آسٹریلیا نے بھی سال میں اضافی عالمی ایونٹ کے انعقاد کے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کے فیصلے کی مخالفت کردی ہے۔

گزشتہ ماہ آئی سی سی نے دبئی میں منعقدہ اجلاس میں اپنے کیلنڈر میں ہر سال ایک اضافی ٹورنامنٹ کی منظوری دی جہاں مذکورہ ٹورنامنٹ 2023 ورلڈ کپ کے بعد سے ہر سال کھیلا جائے گا اور یہ سلسلہ 2031 تک جاری رہے گا۔

اس فیصلے کے تحت 2023 سے 2031 تک ہر سال مردوں اور خواتین کا ایک آئی سی سی ٹورنامنٹ منعقد کرایا جائے گا جن میں سے دو 50اوورز کے ورلڈ کپ، 4 ٹی20 ورلڈ کپ اور اس کے علاوہ دو اور ایونٹ بھی منعقد ہوں گے جو ممکنہ طور پر 50اوورز کے ایونٹ ہو سکتے ہیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر کے عہدے کے امیدوار اور سابق کپتان سارو گنگولی نے کہا کہ وہ آئی سی سی کے منافع میں بھارت کے منافع پر ازسرنو غور کرنا چاہتے ہیں۔

بھارت کے بعد انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز نے بھی آئی سی سی کے اس فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کردی ہے۔

انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کولن گریوز نے کہا کہ آئی سی سی کے اس فیصلے سے دوطرفہ سیریز کا انعقاد خطرے میں پڑ جائے گا جبکہ اس سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا ماڈل بھی بے قدر ہو جائے گا۔

کرک انفو کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا اعتراض انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ آئی سی سی کی دو اہم کرکٹ کمیٹیوں کا حصہ ہیں جن میں سے ایک کرکٹ بورڈ کی مرکزی کمیٹی جبکہ دوسری مالیات اور کمرشل امور کی کمیٹی ہے۔

مذکورہ آٹھ سال کے عرصے میں ان اضافی ایونٹس کی منظوری کا اختیار انہی کمیٹیوں کے پاس ہے لہٰذا کولن گریوز کا اعتراض انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ نے مذکورہ ماڈل کی حمایت کی ہے لیکن اب یہ معاملہ کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔

کولن گریوز نے اس معاملے پر آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو مانو سوہنے کو جمعہ کو ای میل کر کے اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور اس نئے پروگرام کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو کیون رابرٹس بھی اس معاملے پر اپنے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر نئے شیڈول میں پورے سال ایونٹس ہوں گے اور ٹیسٹ کرکٹ پر اثر انداز ہوں گے تو ہم اسے ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *