ايئرلفٹ اور سويول سروس بند کرنے کا حکم نہيں دیا، سيکريٹری ٹرانسپورٹ

سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ غلام عباس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹرانسپورٹ کی نجی سروس ‘ایئرلفٹ’ اور ‘سویول’ کو بند کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سروس کو قانون کے دائرے ميں لانے کا کہا ہے کیونکہ ان کے پاس نہ روٹ پرمٹ ہے اور نہ ہی سروس چلانے کی اجازت ہے جبکہ سويول اور ايئرلفٹ سروس نے اپنی گاڑيوں کی فٹنس بھی نہيں کروائی۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی شہريوں کی زندگيوں سے کھيلنے کی اجازت نہيں دے سکتے، سروسز کو نوٹس جاری کيا ہے کہ آکر اپنا طريقہ کار بتائيں اور اپنا سسٹم رجسٹرڈ کروائيں جبکہ اس سے پہلے کار سروس بھی ہمارے سسٹم ميں رجسٹرڈ ہيں۔

دوسری جانب صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو معیاری ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں اس لیے محکمہ ٹرانسپورٹ نے کراچی میں نئی متعارف کرائی گئی آن لائن ہائی ایس وین سروس کو ٹرائل بنیاد پر چلانے کی اجازت دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ آن لائن بس سروس کو ٹرائل کا وقت مکمل ہونے پر یاد دہانی کا خط لکھا جس کی بدقسمتی سے غلط تشریح کی گئی، ہم باقاعدہ اس سروس کا افتتاح کریں گے جبکہ چاہتے ہیں کہ ایئرلفٹ اور سویول کراچی میں بہتر کام کریں۔

اویس قادر شاہ نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نجی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جبکہ حکومت سندھ بھی سڑکوں پر بسیں لانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن چونکہ اس کے لیے بھاری بجٹ درکار ہے، صوبائی حکومت فوری طور پر بس منصوبے پر عملدرآمد نہیں کر سکتی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘ہماری دونوں آن لائن وین سروسز سے بات ہوئی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ وقت مقررہ میں موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت روٹ پرمٹ اور گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ آن لائن وین اور ٹیکسی سروسز کے لیے قانون متعارف کروانے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے انہیں کم ٹیکسز کی صورت میں فوائد بھی دیے جائیں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ قانون کا معاملہ سندھ کابینہ کے اگلے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ سیکریٹری ٹرانسپورٹ سندھ غلام عباس نے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو خط لکھ کر ایئرلفٹ اور سویول کی سروسز بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

رپورٹس میں صوبائی سیکریٹری ٹرانسپورٹ کے خط کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کمپنیوں نے گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ اور این او سی کے بغیر اپنی سروسز شروع کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے حکومتی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو حکم دیا تھا کہ عوام کے تحفظ اور حکومتی ریونیو میں اضافے کے لیے ان کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *