بیرون ملک علاج کیلئے نواز شریف کی اتوار کو لندن روانگی کا امکان

لاہور/اسلام آباد: حکومت کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے فیصلے کے بعد اتوار(10نومبر)کو نواز شریف کی علاج کے غرض سے لندن روانگی کا امکان ہے۔

شریف خاندان کے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے نواز شریف کے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا تھا کہ ای سی ایل سے نام خارج کرنا محض رسمی کارروائی ہے، جس کے بعد نواز شریف کے لندن جانے کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر قومی احتساب بیورو (نیب) نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

شریف خاندان کے ذرائع نے کہا کہ ‘ہم اتوار (10 نومبر) کو نواز شریف کے لندن سفر کرنے کے انتظامات کررہے ہیں، ہم انہیں ایئر ایمبولینس یا قومی ایئرلائن کی پرواز یا غیرملکی ایئرلائن کے ذریعے لے جانے سے متعلق ڈاکٹروں سے مشاورت کر رہے ہیں’۔

ذرائع نے بتایا کہ ‘شہباز شریف اور نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان لندن کے سفر میں ان کے ہمراہ ہوں گے’۔

خیال رہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے نواز شریف کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں دستیاب تمام آپشنز استعمال کرلیے ہیں اور علاج کے لیے بیرون ملک جانا ہی واحد آپشن رہ گیا ہے، جس کے بعد نواز شریف کے بیرون ملک سفر کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

تاہم چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت پر رہائی کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں پاسپورٹ جمع کروانے کی وجہ سے مریم نواز والد کے ساتھ نہیں جاسکیں گی۔

لندن میں مقیم نواز شریف کے بیٹے حسن نواز، حسین نواز اور بیٹی اسما ان کی دیکھ بھال کریں گی۔

علاوہ ازیں لندن میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے ڈان کو بتایا کہ ‘ہمیں شدید تشویش ہے کہ پاکستان میں موجود ڈاکٹرز تاحال نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد میں اچانک اور شدید کمی کی بنیادی وجہ معلوم نہیں کرسکے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘2 ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نواز شریف کی حالت مستحکم نہیں جبکہ دل اور گردے کے مسائل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے’۔

علی ڈار نے کہا کہ ‘لہٰذا نواز شریف کے اہلِ خانہ جلد از جلد انہیں ایسی جگہ لے جانا چاہتے ہیں جہاں ان کی بیماری کی تشخیص اور علاج کیا جاسکے’۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے خارج کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست دی تھی۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘وزارت داخلہ کو میاں شہباز شریف کی جانب سے میاں نواز شریف کا نام طبی اور ملک سے باہر علاج کی بنیاد پر ای سی ایل خارج کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دے دی ہے’۔

بیان کے مطابق ‘وازرت داخلہ نے معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا تھا’۔

وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ ‘شریف میڈیکل سٹی لاہور سے موصول ہونے والی میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق رپورٹس کو مشورہ اور جائزے کے لیے اسٹینڈنگ میڈکل بورڈ کو بھیج دیا گیا’۔

شہباز شریف کی درخواست کے حوالے سے مزید کہا گیا تھا کہ ‘وزارت داخلہ نے شہباز شریف کی جانب سے درخواست میں اپنائے گئے موقف کے مطابق معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں’۔

وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘وزارت داخلہ تمام حقائق کی روشنی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد متعلقہ حکام کو تجاویز دے گی’۔

قبل ازیں گزشتہ روز ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘ڈاکٹروں کی جانب سے پاکستان میں موجود تمام علاج استعمال کرنے اور بیرون ملک جانے کو ہی آخری آپشن بتانے کے بعد نواز شریف آخرکار لندن جانے پر راضی ہوگئے ہیں’۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کے بیرون ملک سفر سے متعلق ڈاکٹروں کی تجاویز سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔

شریف خاندان کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ‘ڈاکٹروں کی رپورٹس کی روشنی میں حکومت کی جانب سے ایک یا دو روز میں نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد وہ ملک سے باہر جاسکیں گے’۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کردیا گیا تو وہ اسی ہفتے لندن کے لیے روانہ ہوسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ نواز شریف کو لاہور ہائی کورٹ سے رہائی کے احکامات کے بعد دو روز قبل ہی سروسز ہسپتال سے جاتی امرا منتقل کردیا گیا تھا جہاں ان کے لیے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت شعبے کی سہولیات قائم کی گئی تھیں۔

قبل ازیں انہیں گزشتہ ماہ کے اواخر میں نیب لاہور کے دفتر سے تشویش ناک حالت میں سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی پلیٹلیٹس کی تعداد 2 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔

ڈاکٹر محمود ایاز کی سربراہی میں سابق وزیر اعظم کے علاج کے لیے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا اور کراچی سے ڈاکٹر طاہر شمسی کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے مرض کی تشخیص کی تھی تاہم نواز شریف کے پلیٹلیٹس کا مسئلہ حل نہ ہوسکا اور ان کی صحت مستقل خطرے سے دوچار رہی۔

اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف کی ضمانت کے لیے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کر دی تھیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست چوہدری شوگر ملز کیس میں نواز شریف کی نیب حراست سے رہائی سے متعلق تھی، جس پر 25 اکتوبر کو سماعت ہوئی تھی اور اس کیس میں عدالت نے ایک کروڑ روپے کے 2 مچلکوں کے عوض نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کردی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کے علاج کے حوالے سے واضح کیا کہ اگر ضمانت میں توسیع کی ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت سے دوبارہ درخواست کی جاسکتی ہے اور حکومت اس پر فیصلہ کر سکتی تاہم نواز شریف عدالت سے بھی رجوع کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *