ایف بی آر افسران کی حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کی مخالفت

اسلام آباد: اِن لینڈ ریونیو کے 23 چیف کمشنرز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی کے ساتھ ایک ملاقات میں مطالبہ کیا کہ ٹیکس اتھارٹی کے مجوزہ اصلاحاتی اقدامات واپس لیے جائیں۔

تاہم اگر حکومت 2 دن میں یہ معاملہ حل نہیں کرسکی تو ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اس ضمن میں متعدد افراد نے ڈان سے گفتگو میں ہڑتال یا ’قلم چھوڑ ہڑتال‘ کرنے کا امکان ظاہر کیا لیکن مشترکہ طور پر ایسی کوئی دھمکی دینے سے گریز کیا۔

اس سلسلے میں جب چیئرمین ایف بی آر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس معاملے پر بات نہیں کی اور کہا کہ ’اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضروری نہیں، اصلاحاتی عمل تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے شروع کیا جائے گا’۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایف بی آر ریونیو کلیکشن کے حوالے سے ہدف پر مرکوز ہے اور ریونیو شارٹ فال کے حوالے سے بات نہیں کی۔

خیال رہے کہ اس اصلاحاتی عمل کے تحت حکومت نے ملک بھر میں قائم ریجنل ٹیکس آفیسز (آر ٹی اوز) اور لارج ٹیکس پیئر (ایل ٹی یوز) کی سربراہی کرنے والے 23 چیف کمشنر کے عہدے ختم کرنے کی تجوزیز دی تھی۔

اس اقدام کے نتیجے میں 174 کمشنرز کو براہِ راست رکنِ اِن لینڈ ریونیو آپریشنز کو رپورٹ کرنا ہوگا۔

آئی آر ایس کے افسران کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں حکومت کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت پاکستان ریونیو اتھارٹی کے قیام کی حمایت کی گئی تھی تاہم اس ادارے کے لیے مجوزہ انتظامی ڈھانچے کی مخالفت کی گئی۔

اجلاس کے بارے میں ذرائع نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئی آر ایس افسران نے چیئرمین ایف بی آر نے پوچھا کہ حکومت کی توجہ صرف ایف بی آر میں اصلاحات پر کیوں مرکوز ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر کی کارکردگی اعدادو شمار سے ظاہر ہے جہاں ریونیو کلیکشن سال 2010 کے 10 کھرب سے بڑھ کر 50 کھرب تک جاپہنچی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *