ابوبکر البغدادی: فٹ بال سٹار سے ’خلافت‘ تک کا سفر

امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو شام میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ جانیے کیسے ایک متوسط گھرانے کا لڑکا ’دنیا کا سب سے مطلوب‘ شخص بن گیا۔ ابوبکر البغدادی نے جون 2014 میں عراق کے شہر موصل میں اپنی خلافت کے قیام کا اعلان کیا ابوبکر البغدادی کے نام سے مشہور ابراہیم عواد ابراہیم البدری 1971 میں عراق کے شہر سامرہ میں ایک متوسط طبقے کے سُنی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کو اپنی پرہیزگاری کے سبب جانا جاتا تھا اور ان کے قبیلے کا دعویٰ تھا کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی آل میں سے تھے۔ نوجوانی میں بغدادی کو قرآن کی قرات کا شوق تھا اور وہ اسلامی قوانین کی پاسداری میں نہایت احتیاط برتتے تھے۔ ان کے خاندان میں انھیں ’’مومن’‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنے رشتے داروں کو اپنے سخت معیار پر پورا نہ اترنے پر تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

بغدادی نے مذہب میں اپنی دلچسپی یونیورسٹی میں بھی جاری رکھی۔ انھوں نے 1996 میں یونیورسٹی آف بغداد سے اسلامی علوم میں گریجویشن کی اور پھر عراق کی صدام یونیورسٹی فار اسلامک سٹڈیز سے 1999 اور 2007 میں قرآنی علوم میں بالترتیب ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی۔ 2004 تک بغدادی اپنی دو بیویوں اور چھ بچوں کے ساتھ بغداد کے طوبچی علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ وہ مقامی مسجد میں علاقے کے بچوں کو قرآن پڑھاتے رہے جہاں وہ اس کے فٹ بال کلب کے بھی سٹار کھلاڑی تھے۔ جب بغدادی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اسی دوران ان کے چچا نے انھیں الاخوان المسلمون میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے قائل کیا۔

وہ جلد ہی اسلام پسند تنظیم کے اندر موجود کچھ انتہائی قدامت پسند اور متشدد عناصر کی طرف راغب ہوگئے اور سنہ 2000 تک انھوں نے سلفی جہادی نظریے کو اپنا لیا تھا۔ ابوبکر البغدادی 10 ماہ تک عراق میں امریکہ کی قید میں رہےکارکن سے جنگجو تک سنہ 2003 میں امریکہ کی زیرِ قیادت عراق پر یلغار کے کچھ ماہ کے اندر ہی بغدادی نے جنگجو گروہ جیشِ اہل السنہ والجماعۃ نامی تنظیم کے قیام میں کردار ادا کیا۔ فروری 2004 میں امریکی فورسز نے بغدادی کو فلوجہ میں گرفتار کر کے کیمپ بوکا میں قید کر دیا جہاں وہ 10 ماہ تک رہے۔ دورانِ قید بغدادی نے خود کو مذہبی معاملات کے لیے وقف کر دیا اور وہ نمازیں پڑھاتے، جمعے کا خطبہ دیتے اور قیدیوں کے لیے کلاسیں منعقد کرتے۔ ان کے ایک ساتھی قیدی کے مطابق بغدادی کم گو تھے مگر وہ قید خانے میں جہاں صدام کے سابق حامی اور عسکریت پسند قید تھے، وہاں مخالف گروہوں کے درمیان سے اپنا راستہ بڑی آسانی سے بنا لیتے تھے۔

بغدادی نے ان میں سے کئی کے ساتھ اتحاد بنائے اور دسمبر 2004 میں وہاں سے رہا ہوجانے کے بعد بھی ان سے رابطے قائم رکھے۔ اپنی رہائی کے بعد بغدادی نے عراق میں القاعدہ (اے کیو آئی) کے ایک ترجمان سے رابطہ کیا۔ یہ تنظیم القاعدہ سے ملحق ایک مقامی تنظیم تھی جسے ابو مصعب الزرقاوی نامی اردن کے ایک باشندے چلاتے تھے۔ بغدادی کا مذہب پر عبور دیکھتے ہوئے ان ترجمان نے انھیں دمشق جانے کے لیے قائل کیا جہاں ان کی ذمہ داری یہ یقینی بنانا تھی کہ اے کیو آئی کا پروپیگنڈا انتہائی قدامت پسند اسلام کے اصولوں کے مطابق رہے۔ الزرقاوی جون 2006 میں ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے اور ان کی جگہ ایک مصری شہری ابو ایوب المصری نے لی۔ اسی اکتوبر میں مصری نے اے کیو آئی تحلیل کر کے عراق میں دولتِ اسلامیہ (آئی ایس آئی) کی بنیاد رکھی۔ اس گروہ نے نجی طور پر القاعدہ سے وابستگی جاری رکھی۔ بغدادی نے شام میں خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنی تنظیم کے قیام کی راہ ہموار کینئے امیر

بغدادی کے مذہبی پس منظر اور آئی ایس آئیقائم کرنے والے غیر ملکیوں اور بعد میں اس تنظیم میں شامل ہونے والے مقامی عراقیوں کے درمیان خلیج کو پاٹنے میں ان کی مہارت کی وجہ سے بغدادی تیزی سے اس تنظیم کی صفوں میں آگے بڑھتے رہے۔ انھیں شریعہ کمیٹی کا سپروائزر تعینات کیا گیا اور آئی ایس آئی کے امیر ابو عمر البغدادی کی مشیر 11 رکنی شوریٰ کونسل میں نامزد کیا گیا۔ بغدادی کو بعد میں آئی ایس آئی کی کوآرڈینیشن کمیٹی میں تعینات کیا گیا جس کی ذمہ داری عراق میں اس گروپ کے کمانڈروں سے رابطے قائم رکھنا تھا۔ آئی ایس آئی کے بانی اور اس کے امیر کی اپریل 2010 میں ہلاکت کے بعد شوریٰ کونسل نے ابوبکر البغدادی کو نیا امیر منتخب کیا۔ بغدادی امریکہ کی سپیشل آپریشنز فورسز کی جانب سے تباہ کر دی گئی اس تنظیم کی از سرِ نو تشکیل میں مصروف ہوگئے۔ شام میں سنہ 2011 میں بڑھتی ہوئی بدامنی کا فائدہ اٹھانے کی امید لیے بغدادی نے اپنے ایک شامی اہلکار کو وہاں پر آئی ایس آئی کی ایک خفیہ شاخ قائم کرنے کا حکم دیا جسے بعد میں النصرۃ فرنٹ کے نام سے جانا جانے لگا۔دولتِ اسلامیہ کا قیام

جلد ہی بغدادی کے النصرۃ فرنٹ کے رہنما ابو محمد الجولانی کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے جو شامی صدر بشار الاسد کے خلاف لڑنے والے سنی باغیوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے تھے۔ مگر بغدادی اسد کے خلاف محاذ کھولنے سے پہلے طاقت کے ذریعے اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے۔نام نہاد دولتِ اسلامیہ کا قیام القاعدہ کی قیادت کی مخالفت کی وجہ سے ہوا سنہ 2013 کی بہار میں بغدادی نے اعلان کیا کہ النصرۃ آئی ایس آئی کا حصہ تھی، اور انھوں نے اس کا نام تبدیل کر کے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ یعنی داعش (آئی ایس آئی ایس) کر دیا۔ جب القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے بغدادی کو حکم دیا کہ وہ النصرۃ فرنٹ کو آزادی دیں تو بغدادی نے انکار کر دیا۔ فروری 2014 میں الظواہری نے داعش کو القاعدہ سے خارج کر دیا۔ داعش نے اس کا جواب النصرۃ سے مقابلہ کر کے اور مشرقی شام میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کر کے دیا اور بغدادی نے یہاں سخت گیر مذہبی قوانین نافذ کیے۔ جب ایک مرتبہ ان کا گڑھ محفوظ ہوگیا تو بغدادی نے اپنے آدمیوں کو مغربی عراق میں پھیل جانے کا حکم دیا۔اپنی خلافت کا اعلان جون 2014 میں داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد گروہ کے ترجمان نے خلافت کی واپسی کا اعلان کرتے ہوئے اپنا نام صرف ’دولتِ اسلامیہ‘ کر لیا۔ چند دن بعد بغدادی نے موصل میں جمعے کا خطبہ دیا اور اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *