بلوچستان حکومت کا ریکوڈک کیس کے فیصلے پر نظرِ ثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ

حکومت بلوچستان نے سرمایہ کاری تنازعات کے تصفیہ کرنے والے بین الاقوامی مرکز (آئی سی ایس آئی ڈی) کی جانب سے ریکوڈک کیس میں دیے گئے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یاد رہے کہ آئی سی ایس ڈی نے مذکورہ کیس میں حکومت بلوچستان پر 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ اس بات کا انکشاف بلوچستان کے وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن ثنا بلوچ کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا۔ بلوچستان اسمبلی میں موسم خزاں کا پہلا اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس کی سربراہی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو نے کی۔ اس موقع پر ثنا بلوچ اور دیگر اراکین نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ منتخب اراکین کو اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ حکومت ریکوڈک کیس کے سلسلے میں کیا اقدامات کررہی ہے۔

جس پر ظہور احمد بلیدی نے بتایا کہ وہ جلد ہی ریکوڈک کاپر اور گولڈ مائنز منصوبے کے کیس میں آنے والی تبدیلیوں، اس سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات اور اب تک ہونے والی پیش رفت سے ایوان کو آگاہ کریں گے۔ وزیر خزانہ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے معدنی ذخائر کے تحفظ کے لیے قانون سازی متعارف کروانے کا عمل جاری ہے اور حکومت صوبے کے وسائل سے عوام کو مستفید کرنے کے لیے تمام تر اقدامات اٹھائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت پہلے ہی فیصلہ کرچکی ہے کہ کوئی غیر ملکی کمپنی بلوچستان میں ایک انچ بھی زمین نہیں خرید سکتی، اور بلوچستان کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’نیشنل کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘ کے قیام کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت شفافیت یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے او ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز وقت پر ادا کیے جائیں گے کیوں کہ بروقت تمام منصوبوں کی تکمیل حکومت کی ترجیح ہے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے ریکوڈک کیس کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی کی کارکردگی اور سرکاری افسران کی تعیناتی و تبادلے کے حوالے سے پوچھا۔ جس کے جواب میں وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے کہا تھا کہ سرکاری افسران کا تقرر اور تبادلہ صرف ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ انتظامی امور روانی سے جاری رہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جامع پالیسیز بنائی اور نافذ کی جارہی ہیں جو عوام کی بہتری کی راہ ہموار کرنے کے لیے جلد نتائج دیں گی۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما سردار محمد رند کا کہنا تھا کہ ’ہم تمام صوبے میں مثبت تبدیلوں کے لیے تمام تر اقدامات کررہے ہیں اور صوبائی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی اراکین کو بھی پالیسی معاملات سے آگاہ کیا جائے‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *