جمعیت علماء اسلام(ف) کا 27 اکتوبر کوڈی چوک میں آزادی مارچ کا اعلان

جمعیت علماء اسلام ف نے 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کردیا ہے،سربراہ جے یوآئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 27اکتوبر کو کشمیری عوام یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں ہم ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے، یکجہتی کے انہی مظاہروں کے ساتھ آزادی مارچ شروع ہوجائے،انشاء اللہ حکومت کو چلتا کرکے دکھائیں گے . انہوں نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار بند ہوگیا ہے، مہنگائی بڑھ گئی ہے، پاکستان کی عوام بری طرح کرب کا شکار ہیں،ہم نے آج مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ27 اکتوبر کو کشمیری عوام یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں ہم ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے، اوریکجہتی کے انہی مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوجائے .

پورے ملک سے قافلے نکلیں گے اور اسلام آباد پہنچ کردم لیں گے،انشاء اللہ حکومت کو چلتا کرکے دکھائیں گے.انہوں نے کشمیر کا سودا کیا ہے، کشمیر کو بیچا ہے، مگرمچھ کے آنسو بھی بہاتے ہیں،یہ باتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں.میں ایک دودن میں بتاؤں گا کہ انہوں نے پاکستان کو کہاں کھڑا کردیا ہے،پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی بقاء سوال پیدا ہوگیا ہے، ملک اس وقت رسک پر ہے. اورہمیں یہ مذہب کی باتیں کرتا ہے؟

ہم اس کے مذہب کو جانتے ہیں،کس طرح وہ علماء کرام اور جمیعت علماء اسلام اور مذہبی طبقے کو کاؤنٹر کرنے کیلئے کبھی تقریروں کا سہارا لیتا ہے، کبھی علماء کرام کا سہارا لے لیتا ہے.کبھی مذہب کا سہارا لیتا ہے،ہم اگر دینی مدرسوں کو لائیں تو وہ دینی مدرسے اور معصوم بچے؟ آج ان کو خود ضرورت پڑ گئی ہے تو ان کے کیلئے تقریبات مہیا کررہے ہیں،اور جب پریشربڑھتا جائے گا تومجھے خطرہ ہے کہیں چند دن بعد مدرسے میں جاکردرس وتدریس شروع نہ کردے. ایک سوال پر کہا کہ پریشر سے لگتا ہے کہیں وہ داڑھی نہ رکھ لے. ہم سب جماعتوں سے رابطے میں ہیں. مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھرنے اور آزادی مارچ میں پورا ملک آرہا ہے، وکلاء، ڈاکٹرز، ایپکا، ہر شعبے کے لوگ شامل ہوں گے، سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی شامل ہوگی.اگر رکاوٹ ڈالی گئی تو پہلی اسکیم، دوسری اسکیم، پھرتیسری اسکیم کے تحت مارچ کریں گے. لیکن ہم جلدی اٹھنے کے ارادے سے نہیں آرہے. اگر نظر بند کیا گیا تو اس کی بھی حکمت عملی بنا لی ہے. اسمبلی میں استعفے دینے کا فیصلہ سب سے ملکر کریں گے.انہوں نے کہا کہ ہمارا سروکار ڈینگی سے نہیں ڈینگا سے ہے.اپوزیشن جعلی حکومت کیخلاف ایک پیج پر ہے.ہمیں معلوم ہے کس نے کہاں اور کس اسٹریٹجی کے ساتھ آنا ہے.انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں ، تاجروں سے ملاقات ان کا کام نہیں ہے، ہم فوج اور ججز کا احترام کرتے، ہم ان سے تصادم نہیں چاہتے، دھرنے میں ایسا کوئی کام ہونے بھی نہیں دیں گے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *