کہوٹہ پلانٹ کی کہانی ، ڈاکٹر عبدالقدیر کی زبانی

کسی بھی اہم کام یا منصوبے کی کامیابی کے لئے اس سے متعلقہ ماہرین کا ہونا ازبس ضروری ہے۔ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم پاکستان نے جولائی 1976ء میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کے نام سے نیو کلیئر انرجی کے حصول کے لئے میری سربراہی میں ایک خود مختار ادارہ بنایا اور میں نے تیزی سے اس پر کام شروع کر دیا۔ بھٹو صاحب نے اس حوالے سے وزیراعظم کے کچھ اختیارات بھی مجھے تفویض کئے۔ ان باتوں کا اظہار معروف ایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کیا تھا ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس حوالے سے ہمیں ابتدائی ضرورت ایک جگہ کی تھی جہاں یہ کام خاموشی، سکون اور تیزی سے کیا جاسکے۔ مَیں نے وزیراعظم بھٹو سے درخواست کی کہ مجھے آرمی کور آف انجینئرز کی ایک ٹیم دی جائے تو انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق کو ہدایت کی کہ وہ یہ کام فوراً کر دیں۔

دوسرے ہی روز بریگیڈیئر زاہد علی اکبر خان جو بعد میں لیفٹیننٹ جنرل ہوگئے تھے اپنے ساتھ ایک نہایت اچھی تجربہ کار ٹیم لائے جو ماہر آرمی آفیسرز پر مشتمل تھی، جس نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو ہر کام وقت سے پہلے کر دیا کرتی تھی۔ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں پلانٹ کی تنصیب کے لئے ایک ایسی جگہ کی تلاش تھی جو اسلام آباد سے اتنی قریب ہو کہ ہمیں ہمیشہ حکومت اور فوج کی مدد آسانی سے اور جلد دستیاب ہوسکے۔ یہ سب کچھ سوچ کر مَیں نے اور زاہد علی اکبر خان نے کہوٹہ پسند کیا جو اونچے پہاڑوں کے دامن میں واقع تھا ہم نے اس حوالے سے جگہ خریدی اب ہمیں ہر شعبے کے ماہرین پر مشتمل ایک اچھی ٹیم کی ضرورت تھی۔ مَیں چونکہ اپنے کام میں مخلص تھا اور ملک و قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اللہ رب العزت نے میری رہنمائی کی اور مدد کی اور میں ایک کامیاب ٹیم بنانے میں کامیاب ہو گیا،جس میں سویلین اور فوجی ماہرین شامل تھے، مگر اس میں زیادہ تر کا تعلق فوج سے تھا۔

ڈیزائن اور ڈویلپمنٹ کا شعبہ نہایت اہم تھا،جس کے لئے مَیں نے اعجاز احمد کھوکھرکا انتخاب کیا،جو ایک اعلیٰ پائے کے مکینیکل انجینئر اور انجینئرنگ کے شعبہ میں ہر فن مولا تھے اور مَیں نے انہیں اس شعبہ کا سربراہ بنا دیا۔ ہر آلہ (ایکوپمنٹ) سینیٹری فیوج اور پورے پلانٹ کی ڈرائنگ اس شعبہ کی ذمہ داری تھی علاوہ ازیں کھوکھر نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے انٹی ایئر کرافٹ عنزہ کے لئے بہت مفید کام کیا تھا اور پھر اچانک ایک دن ہارٹ اٹیک سے ان کا انتقال ہوگیا یہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں۔ ہمارے ایک قابل اور ماہر انجینئر ڈاکٹر فخر الحسن ہاشمی تھے، جنہیں مَیں نے تمام حساس اور اہم مشینوں کی ذمہ داری سونپی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنا کام برق رفتاری سے کیا وہ ایک اعلیٰ سائنس دان اور میٹالرجی،ویلڈنگ، ویکیوم ٹیکنالوجی اور فزکس کے ماہر تھے۔ میں نے ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں ڈائریکٹر سے ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ پر ترقی دی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر جاوید ارشد مرزا الیکٹرونکس انجینئر، منصور احمد ہیلتھ فزکس، ڈاکٹر اشرف عطا پروسیس ٹیکنالوجی ان تینوں نے پروجیکٹ کی کامیابی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔

یہ سب برطانیہ اور امریکہ سے تعلیم یافتہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میری یہ عادت تھی کہ مَیں روزانہ ہر شعبہ میں جا کر ڈائریکٹروں کے ساتھ بیٹھتا، کام سے متعلق بات چیت کرتا ان کے پورے شعبہ کا دورہ کرتا تھا تاکہ کام میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ آئے اور کام تیزی سے پایہ تکمیل کو پہنچے۔ میراسب سے رویہ دوستانہ تھا اور مَیں نے انہیں کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ مَیں ان کا باس ہوں اور ہم نے ایک مثالی دوستانہ ماحول میں کام کیا تمام کام خوش اسلوبی سے مکمل ہوتا گیا، کیونکہ مجھے فوج پر زیادہ اعتماد تھا تو اِس لئے مَیں نے سول سے زیادہ فوج کے لوگوں کو تعینات کیا تا کہ کہیں رشوت یا کرپشن کا شبہ نہ رہے۔

میری درخواست پر جنرل اسد اللہ خان جو ڈائریکٹر جنرل EME تھے نے تین انجینئر جو فل کرنل تھے بھیج دئیے۔ انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بہت اچھا کام کیا کرنل مجید جو الیکٹریکل انجینئرنگ کے سربراہ تھے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد مَیں نے بریگیڈئیر شیخ محمد جعفر کو اس ڈویژن کا سربراہ مقرر کیا یہ کافی سمجھدار تھے انہوں نے اپنے شعبہ میں اعلی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور انہی کے زمانے میں پلانٹ کی الیکٹریفکیشن اور پاور سپلائی کی تمام تیاریاں مکمل ہوئیں۔ الیکٹریفکیشن اور پاور سپلائی کی ڈرائنگز کینیڈا سے ایم ایس کی ڈگری اور تجربہ رکھنے والے عزیز خان نے بنائی تھی یہ لاکھوں ڈالرز کا کام تھا،جو انہوں نے میری دوستی اور وطن عزیز سے محبت کے باعث کوئی معاوضہ لئے بغیر سرانجام دیا۔کرنل رشید علی قاضی نے آرمی کی ورکشاپ 502-501سے بہترین ٹیکنیشن بلا کر اپنے ساتھ کام میں شامل کر لئے۔ جب ہم کسی اہم حساس اور پیچیدہ پرزہ جات کی ڈرائنگز کرنل قاضی کو دیتے تو وہ مہارت سے انہیں تیار کر لیتے۔ان ایمپلائز کے لئے مَیں نے ہسپتال قائم کیا، کیونکہ انہیں دوسرے ہسپتالوں میں جا کر دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس سے تضیع اوقات ہوتی تھی۔

ہمارے کئی ملازمین دور دراز کے علاقوں سے آتے تھے ان کی رہائش کے لئے کالونی بنوائی اور ان کے بچوں کو سکول لانے اور لے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کا شعبہ قائم کیا۔ بریگیڈیئر سجاول نے میری رہنمائی میں کھیلوں کے لئے بہت اچھا کام کیا۔ گالف کورس کے علاوہ فٹ بال، ہاکی اور ہائیکنگ کلب قائم کیا اور ہمارے کھیلوں کے شعبہ میں کرکٹ کو معروف کھلاڑی دئیے،جن میں سعید انور، شعیب اختر، مصباح الحق، عبدالرزاق، اظہر علی، محمد آصف، ندیم عباسی، علی نقوی، یاسر عرفات، محمد عرفان اور راحت علی جیسے نمایاں کھلاڑی پیدا کئے، جنہوں نے دُنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ الغرض ہم نے ایک ویران جگہ پر کہوٹہ کا شہر آباد کر دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد صدر ضیاء الحق نے بھی ہمارے کام میں پوری دلچسپی لی اور ایک دن صدر ضیاء نے مجھے کہا کہ آپ نے یورینیم کی افزودگی تو کر لی ہے اب آپ ملک کو کب ایٹمی اور میزائل قوت بنا رہے ہیں، مَیں نے جواب دیا کہ ہم تیار ہیں صرف دھماکہ کرنے کی دیر ہے، لیکن مشیت ایزدی کی مرضی کہ ہم ان کے ہوتے ہوئے یہ نہ کر سکے اور 6 اپریل 1998ء کو پاکستان کے پہلے غوری میزائل کا ٹیسٹ کیا اور 28مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکہ اور یہ میاں نوازشریف کے دور میں ہوا اور یہ سب کچھ ہم نے چھ سات سال کے عرصے میں کیا۔ اگرچہ اس اہم کام کی تکمیل کے سلسلے میں میرے خلاف سازشیں کی گئیں، یہ سازشیں میرے نہیں، بلکہ پاکستان کے خلاف تھیں خدا کا شکر ہے کہ ان کی یہ سازشیں ناکام ہوئیں اور رب لم یزل نے ہمیں کامیابی سے ہمکنار کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *