خارجہ پالیسی نے ثابت کردیا تبدیلی آگئی ہے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں خاطر خواہ بہتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی اور خارجہ محکمے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ تبدیلی آنہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔

ملتان میں اپنے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے میڈیا سے گفتگو کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے دورے نے بہت سے لوگوں کے حوصلے پست کردیے اور بہت سے ناقدین کی تنقید بھی بند کردی’۔

امریکا کے دورے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘ان گیارہ ماہ میں ہم نے جو دو طرفہ تعلقات میں جو خاطر خوا بہتری آئی ہے اس کو پوری دنیا نے دیکھا، گیارہ ماہ پہلے ہم پر انگلیاں اٹھ رہی تھیں، ڈو مور کے مطالبے ہورہے تھے، افغانستان کی جتنی قباحتیں تھیں اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ افغانستان کی اس لڑائی کا کوئی سیاسی حل نہیں ہے لیکن عمران خان مسلسل کہتے آئے کہ اگر ہم دیر پاامن چاہتے ہیں تو اس کے لیے ایک سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا، افہام و تفہیم اور مختلف دھڑوں کو لے کر آگے بڑھانا ہوگا’۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ‘آج امریکا بھی اس بات پر قائل ہے، آج چین، روس، یورپی یونین اور مسلم امہ کے ممالک سب یکجا ہیں کہ افغانستان کا دیرپا حل ایک سیاسی ہے، یہ بہت بڑی تبدیلی ہے’۔

شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘لوگ کہتے ہیں تبدیلی آئی یا نہیں، میں کہتا ہوں کہ خارجہ پالیسی اور خارجہ محکمے نے یہ ثابت کردیا کہ تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آگئی ہے، رویوں میں تبدیلی آگئی ہے، پالیسی میں تبدیلی آگئی ہے، سوچ میں تبدیلی آگئی ہے اور اس کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں جس کے لیے ہمیں قوم کی دعائیں اور تعاون درکار ہے’۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا میں بات ہوئی کہ پاکستان امن کے عمل میں سنجیدہ ہے اور پاکستان کی سنجیدگی کا اعتراف بھی کیا گیا اور شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے’۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘خطے میں چند فورسز ایسی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ یہاں امن ہو اور وہ خطے کی امن اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور میں پورے خطے کی قوتوں اور بالخصوص امریکا سے درخواست کررہا ہوں کہ جو امن کے عمل میں رخنہ اندازی کررہیں ہیں ان قوتوں کو بے نقاب کرکے واضح کردیا جائے کہ خطے کی ضرورت اور لوگوں کا فیصلہ کیا ہے’۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن افغان حکومت اور اشرف غنی صاحب پوری طرح ان کے مقصد کو سمجھ نہ پائے اور اعتراض اٹھائے اور جب وہ ایک معاہدے کے لیے پاکستان آرہے تھے تو ہم احتراماً عمران خان صاحب سے اس ملاقات کو منسوخ کیا اور ان کو اعتماد میں لیا کہ اس ملاقات کا مقصد کیا ہے’۔

افغان حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں گے اور طالبان نے بھی عندیہ دیا ہے تو افغان انٹرا مذاکرات کے ذریعے تمام قوتیں مل بیٹھ کر حل نکال لیں اور ہماری کوشش ہے کہ جلد از جلد یہ عمل شروع ہو کیونکہ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *